حقیقت جان کر ایسی حماقت کون کرتا ہے؟
بھلا بے فیض لوگوں سے محبت کون کرتا ہے؟
بتاؤ جس تجارت میں خسارہ ہی خسارہ ہو،
بِنا سوچے خسارے کی تجارت کون کرتا ہے؟
ہمیں ہی غلط فہمی تھی کسی کے واسطے ورنہ،
زمانے کے رواجوں سے بغاوت کون کرتا ہے؟
خُدا نے صبر کرنے کی مجھے توفیق بخشی ہے،
ارے! جی بھر کے تڑپاؤ، شکایت کون کرتا ہے؟
کسی کے دل کے زخموں پر مرحم رکھنا ضروری ہے،
مگر اس دور میں یہ زحمت کون کرتا ہے؟
زمانے کی نگاہوں سے ہیں دلوں کے بھید پوشیدہ
خلوصِ دل سے رب جانے محبت کون کرتا ہے ۔ ۔ ۔

















































